ReePrime
the first drone attack...Hafiz Usama

Hosted by Dailymotion. For legal issues report at the Copyright Center, report us on DMC, or use the Instant Removal tool.

the first drone attack...Hafiz Usama

A
Ahmad-e -Mursal ﷺ

10 Views • Mar 26, 2017

Description

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ۝اَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِاَصْحٰبِ الْفِيْلِ Ǻ۝ۭاَلَمْ يَجْعَلْ كَيْدَهُمْ فِيْ تَضْلِيْلٍ Ą۝ۙوَّاَرْسَلَ عَلَيْهِمْ طَيْرًا اَبَابِيْلَ Ǽ۝ۙتَرْمِيْهِمْ بِحِـجَارَةٍ مِّنْ سِجِّيْلٍ Ć۝۽فَجَــعَلَهُمْ كَعَصْفٍ مَّاْكُوْلٍ Ĉ۝ۧ


تعارف سورة الفیل
یہ سورة مبارکہ ترتیب کے لحاظ سے 105 نمبر پر آتی ہے۔ اس میں ایک رکوع اور پانچ آیات ہیں۔ یہ چھوٹی سی سورت بہت سے مقاصد لیے ہوئے ہے اور تاریخی حیثیت سے بھی بڑی محکم ہے اور عبرت دلانے ڈرانے کے لیے بہترین ثبوت ہے۔ بعثت رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے زیادہ دور کی بات نہ تھی اس لیے عرب کا ہر شخص نہ صرف یہ کہ اس واقعہ سے اچھی طرح واقف تھا بلکہ خوفزدہ بھی تھا۔ حضرت ام ہانی اور سیدنا زبیر بن العوام کی روایت ہے کہ۔ (اس واقعہ کے متعلق) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ قریش نے 10 سال تک اللہ وحدہ لا شریک کے سوا کسی کی عبادت نہ کی۔
کیونکہ ” ابرہہ “ کے حملہ آور ہونے پر انہیں یقین تھا کہ وہ اس کا مقابلہ ہرگز نہیں کرسکتے لہٰذا عبدالمطلب اور دوسرے بڑے بڑے سرداران قریش نے حرم کا کنڈا پکڑ کر اللہ سے دعائیں مانگیں۔ بتوں سے دعائیں نہ کی تھیں اور ابن جریر نے ان کی دعا یوں بیان کی ہے۔
اے میرے رب تیرے سوا میں ان کے مقابلے میں کسی سے امید نہیں رکھتا۔ اے میرے رب ان سے اپنے حرم کی حفاظت کر ' اس گھر کا دشمن تیرا دشمن ہے۔ اپنی بستی کو تباہ کرنے سے ان کو روک ''۔ یہ اللہ پر ایمان کا عقیدہ اس وقت اہل مکہ میں بڑی شدت سے پیدا ہوا تھا۔ کہتے ہیں نا۔ کہ مصیبت میں خدا یا دآتا ہے۔
اسی سے متعلقہ ایک اور واقعہ بھی ہے جب ابرہہ۔ (بروایت محمد بن اسحاق) المغمس پہنچا تو اہل تہامہ اور قریش کے بہت سے مویشی لوٹ کرلے گیا جن میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دادا عبدالمطلب کے دو سو اونٹ تھے۔ ابرہہ نے اپنا ایلچی یہ پیغام دے کر بھیجا کہ '' میں تم سے لڑنے نہیں آیا بلکہ صرف خانہ کعبہ کو ڈھانے آیا ہوں اگر تم نہ لڑو تو میں تمہارے جان و مال کو نقصان نہ پہنچاؤں گا ''۔ اور کسی سردار کو بات چیت کے لیے طلب کیا۔ جس پر عبدالمطلب گئے۔ تو انہوں نے کہا '' میرے اونٹ مجھے واپس کردو۔ ابرہہ حیران ہوا کہ '' تمہیں اونٹوں کی فکر ہے اور خانہ کعبہ کی کوئی فکر نہیں ''۔ تو وہ بولے '' اونٹ میرے ہیں خانہ کعبہ اللہ کا ہے وہ اس کی خود حفاظت کرے گا ''۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ لوگ اللہ کو مانتے تھے مگر پھر بھی گمراہی میں پڑ کر بتوں کو پوجتے رہے۔ بہر حال ابرہہ کا واقعہ عربوں کے لیے کوئی معمولی واقعہ نہ تھا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ابرہہ کون تھا اور خانہ کعبہ کو کیوں مسمار کرنا چاہتا تھا۔
اس کی دو بڑی وجوہات تھیں۔ ایک تو وہ تجارتی راستہ تھا جو جنوبی عرب سے شام کی طرف جاتا تھا۔ یہ بڑا اہم راستہ تھا جس پر مدتوں سے عربوں کا قبضہ تھا اور وہ اس کے ذریعہ خوب کماتے تھے۔ دوسرا عیسائیت کی تبلیغ کرنا چاہتا تھا۔ اور وہاں گرجا گھر بنانا چاہتا تھا۔
ابرہہ کے متعلق یہی معلوم ہوا ہے کہ یہ اصل میں حبش کی بندرگاہ کے ایک یونانی تاجر کا غلام تھا جو بعد میں اپنی ہوشیاری کی وجہ سے یمن کا خودمختار بادشاہ بن گیا۔ اس طرح اس نے مکہ پر حملہ کا منصوبہ بنایا۔ 571؁ء میں 60 ہزار فوج اور 13 ہاتھی لے کر روانہ ہوا۔ جب مکہ میں داخل ہونے لگے تو اس کا خاص ہاتھی اچانک بیٹھ گیا۔ اور پھر پرندوں کے غول کے غول اپنی چونچوں میں خاص پتھر لیے ہوئے ان کی فوج پر حملہ آور ہوگئے۔ اللہ کی بھیجی ہوئی اس فوج کا ہر پتھر جس انسان کو لگتا وہ کھائے ہوئے بھس کی طرح زمین پر گر پڑتا۔ اور یوں فوج تتر بتر ہوگئی۔ بہت سے ادھر ہی مرگئے اور بہت سے واپس جاکر مرگئے ان میں ابرہہ بھی تھا۔
عطا بن یسار کی روایت ہے کہ '' اللہ تعالیٰ نے حبشیوں کو صرف یہی سزا نہیں دی بلکہ تین چار سال کے اندر یمن سے حبشی اقتدار ہمیشہ کے لیے ختم کردیا ''۔
ایک اور خاص بات جو تمام یعنی اکثر مفسرین نے بیان کی ہے کہ اسی سال یعنی عام الفیل کے سال میں ہی محرم میں یہ واقع پیش آیا اور ولادت رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ربیع الاول میں ہوئی۔ '' اصحاب الفیل '' یہ اتنا بڑا اور اہم حیرت انگیز واقعہ تھا کہ تمام شعراء نے قصائد کہے اور یہ بات نمایاں طور پر کہی کہ یہ سب صرف اور صرف اللہ ہی کی قدرت سے ہوا۔ اس سورت کو یہاں اس لیے نازل کیا گیا تاکہ عرب لوگ اس ماضی قریب کے واقعہ سے عبرت حاصل کریں اور بتوں کو چھوڑ کر اللہ کی عبادت شروع کردیں جیسا کہ ان کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بتا رہے ہیں۔ ورنہ وہ بھی اسی طرح عذاب الٰہی میں مبتلا کئے جاسکتے ہیں۔