Skip to content

Hosted by Dailymotion. For legal issues: Copyright Center · DMC · Instant Removal

lv_0_20241021120758

I
ismailkhan official

1 Views • Oct 21, 2024

Description

یہ حدیث رسول اللہ ﷺ کے توحید اور اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنے کی اہمیت پر زور دیتی ہے۔ یہ واقعہ اس بات کی مثال ہے کہ ظاہری طور پر معمولی لگنے والے اعمال بھی انسان کی آخرت کو متاثر کر سکتے ہیں، خصوصاً جب وہ اعمال عقیدے اور توحید کے خلاف ہوں۔

پہلے شخص نے بت کے سامنے مکھی چڑھا کر شرک کیا، جس کی وجہ سے وہ جہنم میں چلا گیا، کیونکہ اُس نے اللہ کے ساتھ کسی اور کو شریک کیا، چاہے وہ بظاہر ایک چھوٹا سا عمل تھا۔ جبکہ دوسرا شخص، جو اللہ کی وحدانیت پر قائم رہا اور اس نے بت کے لیے کچھ بھی نذر کرنے سے انکار کیا، لوگوں نے اُسے قتل کر دیا، لیکن اُس کی ثابت قدمی کی وجہ سے وہ جنت میں چلا گیا۔

یہ واقعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ عقیدے میں مضبوطی اور توحید پر استقامت ضروری ہے، چاہے اس کی قیمت جان ہی کیوں نہ ہو۔ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا اور ایمان پر ڈٹے رہنا ہی اصل کامیابی ہے۔