Skip to content

فخر پاکستان

S
streetboy

1 Views • Aug 04, 2025

Description

مجھے کل ایک دوست نے کراچی کی ایک خاتون کا وزیراعلیٰ سندھ کے نام خط بھجوایا‘ خاتون نے خط میں لکھا
"میرے خاوند انتہائی علیل ہیں یہ ہفتے میں تین بار ڈائیلیسز کراتے ہیں‘ ان کے ڈائیلیسز‘ ماہانہ ٹیسٹوں‘ ادویات‘ انجیکشنز اور ڈاکٹروں کی فیسوں پر ایک لاکھ 75 ہزار روپے ماہانہ خرچ ہو جاتے ہیں‘ ہماری دونوں بیٹیاں مل کر یہ اخراجات برداشت کرتی ہیں۔ لیکن اب ان کے بس کی بات بھی نہیں، لہٰذا میری آپ سے درخواست ہے آپ مہربانی فرما کر میرے خاوند کے میڈیکل اخراجات کا کوئی مستقل بندوبست کر دیں"

خاتون نے آخر میں لکھا
میرے خاوند میرے گھر میں رہتے ہیں اور یہ گھر مجھے میری والدہ نے دیا تھا

یہ ایک عام سا خط تھا‘ ملک میں روز ہزاروں لوگ اس قسم کے خط لکھتے ہیں اور حکومت سے امداد مانگتے ہیں‘ یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں۔

لیکن یہ خط اس کے باوجود غیر معمولی ہے کیوں؟

کیوں کہ یہ درخواست کسی عام خاتون نے نہیں کی

یہ خط پاکستان کے پہلے وزیراعظم خان لیاقت علی خان کی بہو دُر لیاقت علی خان نے لکھا تھا۔ اور جس مریض کے لیے امداد مانگی جا رہی ہے۔ اس کا نام اکبر علی خان ہے۔
اور یہ لیاقت علی خان اور بیگم رعنا لیاقت علی کا بیٹا ہے۔