video not played or not found error
click on direct switch
Hosted by Dailymotion. For legal issues: Copyright Center · DMC · Instant Removal
Daily Hadith Quran365
Q
Quran365days
0 Views • Jul 04, 2026
Description
اللہ فرماتا ہے — "خرچ کر، میں تجھ پر خرچ کروں گا۔" یہ تین الفاظ پوری معیشت کا فلسفہ بدل دیتے ہیں۔ دنیا کہتی ہے جمع کرو تاکہ محفوظ رہو — اللہ کہتا ہے خرچ کرو تاکہ میں تمہیں اور دوں۔ دنیاوی عقل کہتی ہے دینے سے کم ہوتا ہے — اللہ کا وعدہ ہے کہ دینے سے بڑھتا ہے۔
پھر رسول اللہ ﷺ نے اللہ کے خزانے کی ایک ایسی مثال دی جو ذہن کو چونکا دیتی ہے — اللہ نے آسمان و زمین کی تخلیق سے لے کر آج تک اربوں کھربوں مخلوقات کا رزق دیا، ہر سانس دیا، ہر قطرہ پانی دیا، ہر ذرہ روشنی دی — لیکن اس کے خزانے میں ذرہ برابر کمی نہیں آئی۔ سوچیں کہ جب اللہ کا اپنا خرچ کبھی ختم نہیں ہوتا تو کیا وہ بندے کو جو اس کی راہ میں دے اسے کم کر سکتا ہے؟
یہ حدیث بخل کا سب سے بڑا علاج ہے۔ بخل کی جڑ یہ ڈر ہے کہ دینے سے کم ہو جائے گا — لیکن جب دل کو یقین ہو جائے کہ اللہ کا خزانہ لامحدود ہے اور وہ اپنے خرچ کرنے والے بندے کو ضرور لوٹائے گا، تو یہ ڈر خودبخود ختم ہو جاتا ہے۔
اس حدیث میں "اے ابنِ آدم" کا خطاب بھی قابلِ غور ہے — یعنی یہ صرف امیروں کے لیے نہیں، ہر انسان کے لیے ہے۔ غریب ہو یا امیر، ہر کوئی اپنی استطاعت کے مطابق خرچ کر سکتا ہے اور اللہ کے اس وعدے کا مستحق بن سکتا ہے۔
آج کے دور میں ہم اکثر یہ سوچتے ہیں کہ جب زیادہ ہوگا تب دیں گے، ابھی ضرورت ہے — لیکن یہ سوچ ہمیشہ رہتی ہے اور "زیادہ" کا وقت کبھی نہیں آتا۔ اصل بات یہ ہے کہ جو ابھی ہے اس میں سے خرچ کریں — چاہے تھوڑا ہی ہو۔ اللہ نیت اور خلوص دیکھتا ہے، مقدار نہیں۔
خرچ کرنے کے مواقع ہمارے ارد گرد بہت ہیں — کسی غریب کا کھانا، کسی یتیم کی تعلیم، کسی مسجد کی مدد، کسی بیمار کی دوائی، کسی بھوکے کو کھانا — یہ سب اللہ کی راہ میں خرچ ہے اور ہر ایک پر اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ لوٹائے گا۔
یاد رکھیں — اللہ کے خزانے کبھی خالی نہیں ہوتے — لیکن ہمارے ہاتھ اکثر بند رہتے ہیں۔ جس دن ہاتھ کھول دیے، اللہ نے اپنے خزانے کا دروازہ کھول دیا۔ خرچ کرنے والا کبھی محتاج
نہیں ہوتا کیونکہ اس کا سب سے بڑا خزانچی اللہ خود ہے۔
#islam #muslim #best #motivation #makkah #namaz #dua #hope #akhlaq #believe #quotes #positivesayings
پھر رسول اللہ ﷺ نے اللہ کے خزانے کی ایک ایسی مثال دی جو ذہن کو چونکا دیتی ہے — اللہ نے آسمان و زمین کی تخلیق سے لے کر آج تک اربوں کھربوں مخلوقات کا رزق دیا، ہر سانس دیا، ہر قطرہ پانی دیا، ہر ذرہ روشنی دی — لیکن اس کے خزانے میں ذرہ برابر کمی نہیں آئی۔ سوچیں کہ جب اللہ کا اپنا خرچ کبھی ختم نہیں ہوتا تو کیا وہ بندے کو جو اس کی راہ میں دے اسے کم کر سکتا ہے؟
یہ حدیث بخل کا سب سے بڑا علاج ہے۔ بخل کی جڑ یہ ڈر ہے کہ دینے سے کم ہو جائے گا — لیکن جب دل کو یقین ہو جائے کہ اللہ کا خزانہ لامحدود ہے اور وہ اپنے خرچ کرنے والے بندے کو ضرور لوٹائے گا، تو یہ ڈر خودبخود ختم ہو جاتا ہے۔
اس حدیث میں "اے ابنِ آدم" کا خطاب بھی قابلِ غور ہے — یعنی یہ صرف امیروں کے لیے نہیں، ہر انسان کے لیے ہے۔ غریب ہو یا امیر، ہر کوئی اپنی استطاعت کے مطابق خرچ کر سکتا ہے اور اللہ کے اس وعدے کا مستحق بن سکتا ہے۔
آج کے دور میں ہم اکثر یہ سوچتے ہیں کہ جب زیادہ ہوگا تب دیں گے، ابھی ضرورت ہے — لیکن یہ سوچ ہمیشہ رہتی ہے اور "زیادہ" کا وقت کبھی نہیں آتا۔ اصل بات یہ ہے کہ جو ابھی ہے اس میں سے خرچ کریں — چاہے تھوڑا ہی ہو۔ اللہ نیت اور خلوص دیکھتا ہے، مقدار نہیں۔
خرچ کرنے کے مواقع ہمارے ارد گرد بہت ہیں — کسی غریب کا کھانا، کسی یتیم کی تعلیم، کسی مسجد کی مدد، کسی بیمار کی دوائی، کسی بھوکے کو کھانا — یہ سب اللہ کی راہ میں خرچ ہے اور ہر ایک پر اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ لوٹائے گا۔
یاد رکھیں — اللہ کے خزانے کبھی خالی نہیں ہوتے — لیکن ہمارے ہاتھ اکثر بند رہتے ہیں۔ جس دن ہاتھ کھول دیے، اللہ نے اپنے خزانے کا دروازہ کھول دیا۔ خرچ کرنے والا کبھی محتاج
نہیں ہوتا کیونکہ اس کا سب سے بڑا خزانچی اللہ خود ہے۔
#islam #muslim #best #motivation #makkah #namaz #dua #hope #akhlaq #believe #quotes #positivesayings