Hosted by Dailymotion. For legal issues report at the Copyright Center, report us on DMC, or use the Instant Removal tool.
1st Umayyad Caliph
Description
پہلا اموی خلیفہ معاویہ بن ابو سفیان تھے، جو اسلامی تاریخ میں ایک اہم اور متنازعہ شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ معاویہ بن ابو سفیان کا تعلق قریش قبیلے کے اموی خاندان سے تھا، جو مکہ کے ایک معزز اور طاقتور خاندان کے طور پر جانا جاتا تھا۔ ان کی پیدائش تقریباً 602 عیسوی میں مکہ میں ہوئی۔ معاویہ نے ابتدائی زندگی میں ہی اپنی سیاسی اور انتظامی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔
معاویہ بن ابو سفیان نے 661 عیسوی میں خلافت سنبھالی اور 680 عیسوی میں اپنی وفات تک حکومت کی۔ وہ پہلے اموی خلیفہ تھے جنہوں نے دمشق کو اپنا دارالحکومت بنایا۔ ان کی خلافت کا دور اسلامی تاریخ میں اموی خلافت کے قیام کا نقطہ آغاز مانا جاتا ہے۔ معاویہ نے اپنے دور حکومت میں اسلامی سلطنت کو وسعت دی، انتظامی اصلاحات کیں، اور بحری فوج کو منظم کیا۔ انہوں نے رومی سلطنت (بازنطینی سلطنت) کے خلاف کئی فوجی مہمات چلائیں اور جزیرہ نما آئبیریا (ہسپانیہ) تک اسلامی فتوحات کو وسعت دی۔
معاویہ بن ابو سفیان کو ان کی دور اندیشی، سیاسی حکمت عملی، اور انتظامی صلاحیتوں کے لیے جانا جاتا ہے۔ انہوں نے اپنے بیٹے یزید کو اپنا جانشین مقرر کیا، جو بعد میں دوسرا اموی خلیفہ بنا۔ یہ فیصلہ اسلامی تاریخ میں متنازعہ رہا، کیونکہ یہ خلافت کے انتخاب کے بجائے موروثی نظام کی طرف ایک قدم تھا۔
معاویہ بن ابو سفیان کی وفات 680 عیسوی میں دمشق میں ہوئی۔ ان کا دور حکومت اسلامی تاریخ میں ایک اہم موڑ کے طور پر جانا جاتا ہے، جس نے خلافت راشدہ کے دور کے بعد اموی خلافت کی بنیاد رکھی۔ ان کے دور میں اسلامی سلطنت نے سیاسی، فوجی، اور ثقافتی طور پر کئی اہم ترقیاں کیں۔
معاویہ بن ابو سفیان کو ان کے حامیوں کی طرف سے ایک عظیم رہنما اور منتظم کے طور پر یاد کیا جاتا ہے، جبکہ ان کے مخالفین ان پر کچھ مذہبی اور سیاسی فیصلوں پر تنقید کرتے ہیں۔ بہر حال، وہ اسلامی تاریخ کے ایک اہم اور اثر انگیز شخصیت کے طور پر ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔
معاویہ بن ابو سفیان نے 661 عیسوی میں خلافت سنبھالی اور 680 عیسوی میں اپنی وفات تک حکومت کی۔ وہ پہلے اموی خلیفہ تھے جنہوں نے دمشق کو اپنا دارالحکومت بنایا۔ ان کی خلافت کا دور اسلامی تاریخ میں اموی خلافت کے قیام کا نقطہ آغاز مانا جاتا ہے۔ معاویہ نے اپنے دور حکومت میں اسلامی سلطنت کو وسعت دی، انتظامی اصلاحات کیں، اور بحری فوج کو منظم کیا۔ انہوں نے رومی سلطنت (بازنطینی سلطنت) کے خلاف کئی فوجی مہمات چلائیں اور جزیرہ نما آئبیریا (ہسپانیہ) تک اسلامی فتوحات کو وسعت دی۔
معاویہ بن ابو سفیان کو ان کی دور اندیشی، سیاسی حکمت عملی، اور انتظامی صلاحیتوں کے لیے جانا جاتا ہے۔ انہوں نے اپنے بیٹے یزید کو اپنا جانشین مقرر کیا، جو بعد میں دوسرا اموی خلیفہ بنا۔ یہ فیصلہ اسلامی تاریخ میں متنازعہ رہا، کیونکہ یہ خلافت کے انتخاب کے بجائے موروثی نظام کی طرف ایک قدم تھا۔
معاویہ بن ابو سفیان کی وفات 680 عیسوی میں دمشق میں ہوئی۔ ان کا دور حکومت اسلامی تاریخ میں ایک اہم موڑ کے طور پر جانا جاتا ہے، جس نے خلافت راشدہ کے دور کے بعد اموی خلافت کی بنیاد رکھی۔ ان کے دور میں اسلامی سلطنت نے سیاسی، فوجی، اور ثقافتی طور پر کئی اہم ترقیاں کیں۔
معاویہ بن ابو سفیان کو ان کے حامیوں کی طرف سے ایک عظیم رہنما اور منتظم کے طور پر یاد کیا جاتا ہے، جبکہ ان کے مخالفین ان پر کچھ مذہبی اور سیاسی فیصلوں پر تنقید کرتے ہیں۔ بہر حال، وہ اسلامی تاریخ کے ایک اہم اور اثر انگیز شخصیت کے طور پر ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔
More from User
00:51
The Martyrdom of Hazrat Usman Bin Affan (RA)
afora_12
01:29
15th Abbasi Khalifa of The Abbasi Empire
afora_12
01:11
14th Abbasi Khalifa of the Abbasi Empire
afora_12
02:06
13th Abbasi Khalifa of The Abbasi Empire
afora_12
01:50
12th Abbasi Khalipha of the Abbasi Empire
afora_12
02:07
11th Abbasi Khalifa of the Abbasi Empire
afora_12
Related Videos
02:48
7th Umayyad Caliph
afora_12
03:04
VIDEO: Turkish Victory Against Russian Syrian Forces| Rebels Storm Heart of Damascus Umayyad Square
Oneindia
04:10
Umar ibn Abd al-Aziz, commonly known as Umar II, was the eighth Umayyad caliph.
Travel@Azamsyed
02:54
5th Umayyad Caliph
afora_12
02:42
11th Umayyad Caliph
afora_12
03:13
6th Umayyad Caliph
afora_12